
Scene From The Novel
” جب تک تم حاملہ نہیں ہو جاتی تب تک میں ایک دن بھی ناغہ نہیں کروں گا۔ مجھ سے کسی بھی رحم کی امید مت کرنا۔ یہ نکاح بس ایک کنٹریکٹ ہے تم میرا وارث پیدا کرو گی جس کے بدلے میں نے ایک بڑی رقم تمہاری ماں کو دی ہے۔” سونیا جو پندرہ سالہ نازک سی لڑکی ملک اسفند کے گرج دار لہجے سے ڈرتی ہوئی صوفے پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس نے سونیا کو بیڈ پر پٹخا اور خود اس پر جھکتا اسے بے لباس کر گیا۔۔۔۔” تمہاری ماں نے مجھ سے بھاری رقم وصول کی ہے۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے بنا سوچے سمجھے تمہیںخریدا ہے۔ ملک اسفند یار ہوں میں۔۔۔۔۔ اس شہر کا سب سے بڑا بزنس مین۔۔۔ آج تک کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔۔۔ اور مجھے لڑکیوں کی کمی نہیں تھی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی میری سیج سجانے کے لیے تیار تھی۔ مگر تمہاری ماں کو پیسوں کی ضرورت تھی جس کے بدلے میں وہ تمہیں میرے پاس پیچ گئیں۔۔۔۔ اور نکاح بھی بس ایک فارمیلٹی ہے۔ کیونکہ اسفند یار کبھی حرام کام نہیں کرتا۔۔۔” سونیا جو بیچاری اجڑی سی حالت بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس تھی اس بات سے انجان کہ آج وہ کام والی ماسی سے ملک اسفند کی بیوی بن جائے گی۔۔۔۔
ملک اسفند کے سامنے بولنے کی تو وہ جرات بھی نہیں کر سکتی تھی۔ بالکل سہمی ہوئی فرش پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔” اپنا یہ بھیکاریوں والا حلیہ بدلو اس شاپنگ بیگ میں تمہارے کچھ جوڑے ہیں پانچ منٹ میں مجھے تم ایک دم پرفیکٹ حلیے میں ادھر بیڈ پر موجود چاہئے ہو۔۔۔۔۔” سونیا نوکروں کی طرح حکم مانتی ایک جوڑا لے کر واش روم میں چلی گئی۔۔۔ پہلے نہائی اور پھر وہ نیا سوٹ پہن کر خود کو شیشے میں دیکھ کر سوچنے لگی کہ کیا مجھے اپنی قسمت پر رشک کرنا چاہئے یا ماتم؟؟؟ اس کا دل ہر جذبے سے خالی تھا۔۔۔۔۔ ایک روبوٹ کی طرح وہ سب حکم مان رہی تھی۔ کیونکہ اب اس کا کوئی اور آسرا جو نہ تھا۔۔۔۔ اسفند یار نے گرجتی آواز سے پکارا ” جلدی باہر آؤ پوری رات تمہارے انتظار میں نہیں گزار سکتا۔۔۔” وہ جلدی سے گیلے بالوں کو پیچھے کرتی باہر آئی۔۔۔۔ نہا کر اس کا روپ نکھر گیا تھا۔ وہ جو بمشکل پندرہ سال کی تھی اور اسفند یار جو پہلے سے شادی شدہ پینتیس سال کا جوان مرد۔۔۔۔
سونیا بیڈ کے پاس آکر کھڑی ہو گئی۔۔۔ “جی صاحب جی۔۔۔” سونیا کے اس طرح بلانے پر وہ بولا ” میرا نام اسفند یار ہے۔۔۔ تم میرا نام لے سکتی ہو۔۔۔”وہ حیرانگی سے بولی “مگر۔۔۔” اس کی بات کو ٹوکتا اسفند بولا۔۔۔۔۔ ” بیٹھو میرے پاس دیکھو تمہارا اور میرا رشتہ کوئی جذباتی طور پر نہیں جڑا تمہاری ماں کو پیسے چاہیئے تھے اور مجھے میرا وارث۔۔۔۔ میری بیوی کبھی ماں نہیں بن سکتی اور میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں اس لیے یہ نکاح چوری کیا۔ جب تم سے میرا وارث ہو جائے گا تو تم میری طرف سے پھر آزاد ہو گی۔۔۔” سونیا جو بیچاری پندرہ سال کی ابھی خود بچی تھی ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر بس خاموشی سے سر جھکائے سب سنتی رہی اسے بس یہی دکھ تھا کہ اس کی سگی ماں نے اسے پیسوں کے بدلے اس امیر زادے کے پاس بیچ دیا۔۔۔۔۔ خیر اب وہ اس امیر زادے کی دسترس میں تھی جسے اس معصوم سے کوئی لگاؤ نہیں تھا بس وارث چاہئے تھا تا کہ اس کی بیوی بانجھ ہونے کے طعنے نہ سنے۔ ملک اسفند یار اس ننھے سے وجود کے ساتھ کھیلنے لگا تو سونیا خود میں ہی سمیٹتی جا رہی تھی۔ جب وہ پوری طرح اس پر حاوی ہوا تو سونیا کی سسکیاں اونچی ہونے لگیں۔
بے بسی سے اسے پیچھے کی طرف دھکیل رہی تھی مگر وہ اسفند یار ہوش سے بیگانہ اس کے وجود میں کھوسا گیا۔۔۔ غلام رسول جنہیں فالج کا اٹیک ہوا تو سکینہ شوہر کو لیے ہسپتال پہنچی تھی بے چینی کی حالت میں ہسپتال کے بینچ پر بیٹھی شوہر اور بیٹی کے لیے دعا کر رہی تھی۔ سکینہ خود کو اس وقت انتہائی بے بس اور اس بھری دنیا میں اکیلا محسوس کرتے رو رہی تھی۔۔۔ کہ اچانک اندر سے ایک نرس باہر آئی جس نے کہا ” آپ کے شوہر کی حالت کافی خراب ہے مگر امید ہے وہ ریکور کر جائیں گے اس لیے آپ فیس جمع کروا دیں تاکہ ان کا علاج شروع ہو سکے۔۔۔” سکینہ نے جو رقم اسفند یار سے بیٹی کے بدلے لی وہ ساری شوہر پر لگا رہی تھی کہ کسی طرح اس کے شوہر کا سایہ اس کے سر پر قائم رہے۔۔۔۔” روحی کی اتنی کالز سب خیریت تو ہے؟؟ ” اسفند جو صبح کے پانچ بجے موبائل دیکھ کر حیران ہوا کہ روحی جو ملک اسفند کی محبت اور اس کی خاندانی بیوی تھی۔۔۔ یقیناً وہ رات کے وقت اسفند کی غیر موجودگی پر پریشان ہو رہی ہو گی۔۔۔ اسفند نے کال بیک کی تو روحی بنا رکے چلنے لگی۔ ” کہاں ہو اسفند کس کے ساتھ ہو۔۔۔ آج سے کبھی رات کو گھر سے باہر نہیں رہے یقیناً تم کسی کے ساتھ ہو بلکہ میں تمہیں ابھی ویڈیو کال کرتی ہوں تاکہ دیکھوں تم کہاں اور کس حالت میں ہو۔۔۔۔۔” سونیا جو اسفند کی آواز سن کر نیند سے جاگی وہ سمجھ گئی کہ ضرور روحی بی بی ہوں گی۔۔۔
سونیا پریشان ہونے لگی…” اگر ان کو پتا چلا تو وہ تو مجھے جان سے مار دیں گی۔۔۔۔” اسفند بولا ” ریلیکس روح پلیز کم ڈاؤن۔۔۔” اسفند جتنا بھی غصے والا تھا مگر بیوی کے سامنے بلکل ہار جاتا تھا۔۔۔۔ ” پلیز روحی رو مت تمہیں پتہ ہے تمہاری آنکھوں سے نکلے آنسو مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔۔۔۔ اور سنو میں اس وقت کہاں ہوں کیا کر رہا ہوں؟؟؟ جب تمہیں پتہ چلےگا تو تم خوشی سے اچھل پڑو گی۔۔۔۔ تمہارے لیے سرپرائز ہے۔ صبح گھر آکر سب بتاتا ہوں۔۔۔” یہ کہہ کر اسفند نے کال بند کردی تو سونیا سہمے سے لہجے میں بولی۔۔۔۔” اسفند صاحب کیا روحی بی بی تھیں فون پر؟؟ ” تو اسفند بولا ” ہاں کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ ” ” جی وہ جب روحی بی بی کو پتہ چلے گا وہ تو ہمیں جان سے مار ڈالیں گی۔
۔۔ہائے یہ غربت بھی بڑی بری چیز ہے صاحب جی غریب اپنا آپ بھی بیچ دیں تو خوشیاں نہیں ملتی اور امیر لوگ خوشیاں خرید لیتے ہیں۔۔۔” اس کم عمر لڑکی کی گہری سی بات پر ایک دم ملک اسفند اس کی جانب پلٹا اور اس کے چہرے کو کو بغور دیکھنے لگا۔۔۔اس کے چہرے پر جگہ جگہ نشان پڑے دیکھ کر اسفند اپنا رخ بدل گیا۔ جو بھی تھا مگر سونیا تھی بڑی خوبصورت۔ اس کے چہرے میں ایک کشش سی تھی جو دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی۔۔۔ اسفند اٹھ کر فریش ہونے لگا اسے اب ملک ہاؤس جانا تھا۔۔۔ سونیا گھبرا کر بولی : او جی کیا میں ادھر اکیلی رہوں گی؟؟؟ مجھے عادت نہیں ہے جی اس طرح اکیلے رہنے کی۔۔۔” اسفند نے ڈریسنگ کے شیشے سے ایک نظر سونیا پر ڈالی اور دھیمے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
Story From The Novel
The story centers on Sonia, a fifteen-year-old girl who is forced into a marriage with Asfand Yar after her mother accepts money from him to pay for her husband’s medical treatment. Asfand, a wealthy businessman, treats the marriage as a transaction because he wants an heir, while Sonia is frightened, powerless, and unable to understand or accept the situation she has been forced into. Her mother uses the money to pay for her husband Ghulam Rasool’s treatment, leaving Sonia feeling betrayed and abandoned by the very person who should have protected her.
Asfand explains that his existing wife, Ruhi, cannot have children and that he wants Sonia to have his heir, after which he claims she will be free. Sonia remains emotionally numb and terrified, especially because she knows Ruhi may react violently if she discovers the secret marriage. Meanwhile, Ruhi repeatedly calls Asfand during the night, suspicious of his absence. Asfand avoids revealing the truth and promises her that he has a surprise waiting for her at home.The situation highlights the painful contrast between Sonia’s poverty and Asfand’s wealth: her mother was desperate enough to accept money, while Asfand was powerful enough to treat Sonia’s future as something he could purchase.
Sonia’s innocence and fear make her increasingly aware that she has lost control over her own life. Asfand prepares to return to the Malik house, while Sonia anxiously asks whether she will be left alone, showing how dependent and vulnerable she has become in an unfamiliar world.Download Novel By Clicking Download Button Below