Scene From The Novel

” اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔ ” بے تابی سے ملک ارقم نے میرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو میرم خوف سے روتی ہوئی چندا بائی کی منتیں کرنے لگی۔ “میں آپکے سارے کام کر دونگی، بس میری عزت کا سودا نا کریں۔” چندا بائی اس کی منتیں نظر انداز کر کے بولی “صاحب! لڑکی ہیرا ہے بلکل ان ٹچ!” ملک ارقم نے بلینک چیک چندا بائی کی طرف پھینکا اور میرم کی کلائی جکڑ لی۔ میرم ڈر سے بری طرح چیخنے لگی۔ ملک ارقم کا وجود غیرت سے زلزلوں کی زد میں تھا، وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی۔ جس کی جائیداد پر قبضہ کر کے اس کے چچا نے اسے کوٹھے پر بیچ دیا تھا مرنے سے پہلے ارقم کا دوست اسے اپنا بہنوئی بنانا چاہتا تھا۔” میں اپنی جان دے دونگی پر عزت نہیں۔۔ “میرم نے کہہ کر پیٹ میں شیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا بدنام گلی کے اس پرانے کوٹھے پر رونقیں ابھی جوان ہو رہی تھیں۔

فضا میں طبلے کی تھاپ گھنگروؤں کی چھنکار اور امیر زادوں کے غلیظ بے ہودہ قہقہوں کا شور گونج رہا تھا۔ اس گناہ آلود رونق کے بیچوں سرخ لباس میں ملبوس میرم ایک جیتے جاگتے جنازے کی طرح بیٹھی تھی۔ سرخ جوڑا جو کسی دوشیزہ کے لیے زندگی کے سب سے خوبصورت خواب کی علامت ہوتا ہے اس وقت میرم کے وجود پر ایک کفن کی طرح لپٹا ہوا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو گالوں پر لگی لال سرخی کو بہا کر لے جا رہے تھے اور اس کا معصوم وجود خوف کی شدت سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کے نازک ہاتھ مسلسل اپنے دوپٹے کو بھینچ رہے تھے ابھی چند دن پہلے تک وہ اپنے بھائی ارسلان کے سایہ شفقت میں ایک شہزادی کی طرح رہتی تھی۔ لیکن بھائی کے اچانک انتقال کے بعد اس کے اپنے سگے چچا چوہدری غفار نے جائیداد کی ہوس میں اندھے ہو کر اس کی دنیا اجاڑ دی۔ ا

س نے نہ صرف بھائی کا ترکہ ہڑپ لیا بلکہ رات کے اندھیرے میں اس معصوم کو اس بد نام کوٹھے کی مالکن چندا بائی کے ہاتھوں چند پیسوں میں بیچ دیا۔۔۔محفل کے درمیان ایک اونچی نشست پر چندا ہائی براجمان تھی جو اپنے پان سے لال ہونٹوں کو چباتے ہوئے گاہکوں پر للچائی ہوئی نظریں ڈال رہی تھی۔ اچانک محفل خانے کا بھاری لکڑی کا دروازہ زور سے کھلا۔ محفل کا شور جیسے پل بھر میں جم گیا۔ ایک لمبا باوقار اور وجیہہ قامت مرد اندر داخل ہوا جس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔ اس کا ہر قدم زمین پر اتنے رعب سے پڑ رہا تھا کہ ارد گرد! بیٹھے ہوئے سیٹھ اور نواب سہم کر پیچھے ہٹ گئے۔ وہ ملک ار قم تھا۔ ارقم کی نظریں جیسے ہی سرخ لباس میں لیٹی سسکتی ہوئی میرم پر پڑیں اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ ارقم نے سرد نظر پورے کمرے پر ڈالی پھر اس کی بھاری اور رعب دار آواز نے محفل کی خاموشی کو چیر کر رکھدیا۔ “اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے ” ارقم نے میرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ اس کا لہجہ اتنا سخت اور دو ٹوک تھا کہ محفل میں بیٹھے تمام لوگ خاموش ہو گئے۔ میرم نے جیسے ہی اس اجنبی شخص کی آواز سنی اور اس کا اپنی طرف اشارہ دیکھا اس کی روح تک کانپ اٹھی۔ اس کا دل ڈوبنے لگا کہ شاید یہ شخص باقی تمام درندوں سے زیادہ ظالم ہے اور اس کی قیمت لگا کر اسے خریدنے آیا ہے۔۔

۔خوف کی ایک شدید لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ بدحواس ہو کر زمین پر گھسٹتی ہوئی چندا بائی کے قدموں میں جاگری اور اس کا غرارہ پکڑ کر منتیں کرنے لگی۔ “چندا بائی خدا کے لیے۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے آپ کو مجھے اس طرح نہ بھچیں ” میرم ہچکیوں کے درمیان خوف سے تھر تھراتے ہوئے التجا کر رہی تھی۔ ” میں آپ کے سارے کام کر دوں گی۔۔۔۔ میں صبح سے رات تک برتن دھو لوں گی فرش پر جھاڑو لگا لوں گی آپ جو کہیں گی کروں گی۔۔۔۔ بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔ مجھے کسی کے ساتھ نہ بھیجیں مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں” چندا بائی نے اس کی دردناک منتوں اور بہتے ہوئے آنسوؤں کو اس طرح نظر انداز کیا جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی ہے جان کھلونا ہو۔ وہ ارقم کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولی ” او ہو۔۔۔۔ ارقم صاحب ذرا ٹھہریے اتنی بے تابی بھی کیا ہے؟ ذرا مال کی قدر تو دیکھیے۔” چندا بائی نے میرم کے دوپٹے کو چھونے کی کوشش کی جس سے میرم خوف سے پیچھے ہٹی۔ چندا بائی نے اتراتے ہوئے کہا ” صاحب لڑکی ہیرا ہے بالکل ان چھوئی ہے۔ نواب زادے اس کا ایک دیدار کرنے کے لیے لاکھوں لٹانے کو تیار ہیں۔ اس کی قیمت اتنی معمولی نہیں ہوگی کہ آپ یوں ایک جملے میں طے کر لیں۔۔۔” ملک ارقم نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے چیک بک نکالی قلم سے اس پر اپنے دستخط کیے اور وہ بلینک چیک چندا بائی کے منہ پر دے ماری۔۔۔”

چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے” ارقم کی آواز میں ایسا غضب تھا کہ چندا بائی چیک سنبھالتی ہوئی خود بخود دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اگلے ہی لمحے ارقم لمبے ڈگ بھرتا ہوا میرم کے قریب پہنچا اور میرم کی کلائی کو جکڑ لیا “آ۔۔۔۔چھوڑو مجھے چھوڑو” میرم ڈر سے بری طرح جیخنے لگی۔ اس نے تمام تر طاقت لگا کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن ارقم کی گرفت مضبوط تھی۔ میرم کا نازک دل خوف سے بند ہو رہا تھا۔ اسے یقین ہو چلا تھا کہ یہ بے رحم شخص اسے خرید چکا ہے اور اب اس کی اذیت کا سفر شروع ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Story From The Novel

This scene centers on Meher, a young woman who is betrayed by her own uncle after the death of her brother. Driven by greed, her uncle sells her to Chanda Bai’s notorious establishment, where Meher is dressed for a life she desperately wants to escape. Terrified and helpless, she repeatedly begs Chanda Bai not to sell her, insisting that she will do any work required but will not surrender her dignity.

Everything changes when Malik Arqam enters the establishment and asks for Meher’s price. Believing that he is another wealthy man who has come to purchase her, Meher becomes terrified. Arqam throws Chanda Bai a blank cheque and takes hold of Meher’s wrist, causing her to panic even further. Convinced that she is about to be taken away against her will, Meher threatens to hurt herself rather than allow anyone to violate her dignity.

Arqam immediately stops her and makes it clear that he has no intention of harming her.Arqam then reveals the truth: Meher is the younger sister of his deceased best friend, Arsalan. Before his death, Arsalan had trusted Arqam to protect his sister, and Arqam is determined to fulfill that promise. He tells Meher that he will never allow anyone—not even herself—to harm her. His guards then arrive and take control of the establishment while Arqam covers Meher with his cloak, protecting her from the eyes around them.

Completely overwhelmed by fear and shock, Meher loses consciousness, and Arqam carefully carries her outside and places her safely in his vehicle, determined to protect her from the people who betrayed and exploited her.Download Novel By Clicking Download Button Below

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *